Prof. Syed Mujahid Sajjad

جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا

انہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاں

انہی دنوں کی تہوں میں ہے کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دن

انہیں دنوں میں نمویاب کون دیکھے گا

یہ ایک سانس جھمیلوں بھری جگوں میں رچی

اس اپنی سانس میں کون اپنا انت دیکھے گا

اس اپنی مٹی میں جو کچھ امٹ ہے مٹی ہے

جو دن ان آنکھوں نے دیکھا ہے کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

دو رویہ ساحل دی��ار اور پس دیوار

اک آئنوں کا سمندر ہے کون دیکھے گا

ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا

مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

تڑخ کے گرد کی تہ سے اگر کہیں کچھ پھول

کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad