ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں
کل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا
ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کا
دو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا
کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کر
اپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا
دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعد
یوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا
یوں طے کیا انہوں نے محبت کا مرحلہ
ایک ایک گھونٹ اور جو ہونا تھا ہو گیا
دونوں کی آنکھ میں تھا اک اک اشک منجمد
جو خشک خشک پلکوں کی نوکیں بھگو گیا
کچھ کہنے پائی تھی کہ وہ خاموش ہو گئی
کوئی جواب دینے کو تھا وہ کہ سو گیا
پیمانۂ اجل کا وہ تلخابہ اس طرح
روحوں کے زخموں سینوں کے داغوں کو دھو گیا
اکثر یونہی ہوا ہے کہ الفت کا امتحاں
دشواریوں میں موت کی آسان ہو گیا
آؤ نا ہم بھی توڑ دیں اس دام زیست کو
سنگ اجل پہ پھوڑ دیں اس جام زیست کو
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔