Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں نے اس کو دیکھا ہے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

میں نے اس کو دیکھا ہے

اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں

پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں

جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے

''دنیا! تیرا حسن، یہی بد صورتی ہے''

دنیا اس کو گھورتی ہے

شور سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے

انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال

کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال

بام زماں پر پھینکا ہے

کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں میں

روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں

لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ

عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ

کون ہے یہ گستاخ

تاخ تڑاخ!

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad