اور پھر اک دن میں اور تم ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اور پھر اک دن میں اور تم ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے
جن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھا
اس وقت آنگن آنگن میں ترچھی کرنوں نے دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھے
دیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھا
یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیں
اور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی ایسی ہی صبحوں کی اوٹ میں
ہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھے
اور اس شہر کے لوگ اب بھی گلیوں میں خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو سج رہے تھے
اور پھر ہم نے سوچا
کون اچھا ہے ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش پاتے ہیں یا وہ جو
ہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیں
ابھی ابھی تو میرے ساتھ ساتھ تھے ہم اسے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو پھر کب لوٹو گے
اک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گا
جس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میں
کچھ نادیدہ آنکھیں ہم کو دیکھ کے اب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔