Prof. Syed Mujahid Sajjad

اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک

اک دیوار ہے رمز دروں کی

اس دیوار کے اندر کی جانب جتنا کچھ بھی ہوتا ہے جس کے پاس خزانہ اک دردانہ یا اک تال مکھانہ

نقد باطن یا کم از کم آب و دانہ

جتنا کچھ بھی پاس ہو اتنی ہی دیوار یہ موٹی ہوتی ہے اور

اس دوری کے باعث

اتنی ہی اس روح کی بات ذرا گمبھیر اور گہری ہو جاتی ہے

اپنے بوجھ سے بوجھل ہو جاتی ہے دیر سے سننے میں آتی ہے

اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں روح نہ اس کا کوئی دھارا

اپنے پاس تو صرف اک یہ آواز ہے جس کے آگے کوئی بھی دیوار نہیں ہے

سن سے تمہارے پاس پہنچ جاتی ہے

اس آواز میں رمز دروں کے سارے غیر مقطر زہر ہیں اس کا برا نہ

کبھی کبھی جی میں آئے تو سن لو

چن لو

رکھ لو

چکھ لو

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad