مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہا
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہا
جہاں صرف بے مہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما
پہاڑوں کے بیٹے
چنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں سنگ خارا کے ریزے
سجل دودھیا نرم جسم اور کڑے کھردرے سانولے دل
شعاعوں ہواؤں کے زخمی
چٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیں
وطن ڈھیر اک ان منجھے برتنوں کا
جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں در بہ در ڈھونڈھتی ہیں
وطن وہ مسافر اندھیرا
جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کر
کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے
ندی بھی زر افشاں دھواں بھی زر افشاں
مگر پانیوں اور پسینوں کے انمول دھارے میں جس درد کی موج ہے عمر پیما
ضمیروں کے قاتل اگر اس کو پرکھیں
تو سینوں میں کالی چٹانیں پگھل جائیں!
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔