Prof. Syed Mujahid Sajjad

بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری

آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری

نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری

آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری

پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری

عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری

چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزری

سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری

کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری

چند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری

کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلی

دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی

دو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلی

اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی

پنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلی

صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے

ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے

شام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے

جھن جھن ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائے

ایک پتنگا دیپک پر جل جائے دوسرا آئے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad