Prof. Syed Mujahid Sajjad

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

میرے بسیرے کو مہکانے

میں خوشبو میں خوشبو مجھ میں

اس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانے

مجھ سے چھو کر مجھ میں بس کر

اس کی بہاریں اس کے زمانے

لاکھوں پھولوں کی مہکاریں

رکھتے ہیں گلشن ویرانے

مجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیں

میں بیگانہ وہ بیگانے

ان کو بکھیرا ان کو اڑایا

دست خزاں نے موج صبا نے

بھولا بھٹکا ناداں قطرہ

آنکھوں کی پتلی کو سجانے

آنسو بن کر دوڑا آیا

میری پلکیں اس کے ٹھکانے

اس کا تھرکنا، اس کا تڑپنا

میرے قصے میرے فسانے

اس کی ہستی میری ہستی

اس کے موتی میرے خزانے

باقی سارے گوہر پارے

خاک کے ذرے ریت کے دانے

پربت کی اونچی چوٹی سے

دامن پھیلایا جو گھٹا نے

ٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے

بے خود آوارہ مستانے

اپنی ٹھنڈک لے کر آئے

میری آگ میں گھل مل جانے

ان کی ہستی کا پیراہن

میری سانس کے تانے بانے

ان کے جھکولے میری امنگیں

ان کی نوائیں میرے ترانے

باقی سارے طوفانوں کو

جذب کیا پہنائے فضا نے

فطرت کی یہ گونا گونی

گلشن بن وادی ویرانے

کانٹے کلیاں نور اندھیرا

انجمنیں شمعیں پروانے

لاکھوں شاطر لاکھوں مہرے

پھیلے ہیں شطرنج کے خانے

جانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیں

صہبا سے خالی پیمانے

بھوکی مٹی کو سونپے ہیں

دنیا نے اپنے نذرانے

جس نے میرا دامن تھاما

آیا جو مجھ میں بس جانے

میرے طوفانوں میں بہنے

میری موجوں میں لہرانے

میرے سوز دل کی لو سے

اپنے من کی جوت جگانے

زیست کی پہنائی میں پھیلے

موت کی گیرائی کو نہ جانے

اس کا بربط میرے نغمے

اس کے گیسو میرے شانے

میری نظریں اس کی دنیا

میری سانسیں اس کے زمانے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad