اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوں
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوں
وہ صبح کا تارا ابھرا وہ پو پھوٹی اب میں جاتا ہوں
جاتا ہوں اجازت جانے دو وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیں
سورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں
وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں
وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں
دیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہے
وہ رات سہانی بیت چکی آ پہنچی صبح جدائی ہے
اب مجھ کو یہاں سے جانا ہے پر شوق نگاہو مت روکو
او میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو مت روکو
ان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوں
ان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوں
جاتا ہوں اجازت وہ دیکھو غرفے سے شعاعیں جھلکی ہیں
پگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیں
کھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہے
ایک ایک رسیلی سر جس کی پیغام سفر کا لائی ہے
مجبور ہوں میں جانا جو ہوا دل مانے نہ مانے جاتا ہوں
دنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔