Prof. Syed Mujahid Sajjad

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار

گھنے سہانے چھاؤں چھڑکتے بور لدے چھتنار

بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم

قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم

گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار

کٹتے ہیکل جھڑتے پنجر چھٹتے برگ و بار

سہی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad