Prof. Syed Mujahid Sajjad

دھیرے دھیرے گر رہی تھیں نخل شب سے چاندنی کی پتیاں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

دھیرے دھیرے گر رہی تھیں نخل شب سے چاندنی کی پتیاں

بہتے بہتے ابر کا ٹکڑا کہیں سے آ گیا تھا درمیاں

ملتے ملتے رہ گئی تھیں مخملیں سبزہ پہ دو پرچھائیاں

جس طرح سپنے کے جھولے سے کوئی اندھے کنویں میں جا گرے

ناگہاں کجلا گئے تھے شرمگیں آنکھوں کے نورانی دیے

جس طرح شور جرس سے کوئی واماندہ مسافر چونک اٹھے

یک بیک گھبرا کے وہ نکلی تھی میرے بازوؤں کی قید سے

اب سلگتے رہ گئے تھے، چھن گیا تھا جام بھی

اور میری بے بسی پر ہنس پڑی تھی چاندنی

آج تک احساس کی چلمن سے الجھا ہے یہ مبہم سا سوال

اس نے آخر کیوں بنا تھا بہکی نظروں سے حسیں چاہت کا جال

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali