شکیب جلالی
Shakeb Jalali: Urdu poetry
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔
64 verses on this site
Nazm
دھیرے دھیرے گر رہی تھیں نخل شب سے چاندنی کی پتیاں
Nazm
شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں
Nazm
دور شب کا سرد ہات
Nazm
یہاں درخت کے اوپر اگا ہوا ہے درخت
Nazm
شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند
Nazm
کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہو
Nazm
میں بھٹکا ہوا اک مسافر
Nazm
میرا چہرہ آئینہ ہے
Nazm
کس طرح ریت کے سمندر میں
Nazm
رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے
Nazm
ایک انساں کی حقیقت کیا ہے
Nazm
میں اس کو پانا بھی چاہوں
Nazm
سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں
Nazm
یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے
Ghazal
کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
Ghazal
غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
Ghazal
دشت و صحرا اگر بسائے ہیں
Ghazal
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
Ghazal
خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے
Ghazal
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
Ghazal
مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو
Ghazal
درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
Ghazal
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
Ghazal
ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا
Ghazal
بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا
Ghazal
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
Ghazal
کوئی اس دل کا حال کیا جانے
Ghazal
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
Ghazal
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
Ghazal
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
Ghazal
رات تو کٹ گئی درد کی
Ghazal
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
Ghazal
اتر گیا تن نازک سے
Ghazal
قریہ قریہ
Ghazal
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
Ghazal
رعنائیِٔ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
Ghazal
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
Ghazal
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
Ghazal
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
Ghazal
برگِ دل کی طرح ہے
Ghazal
جاری رہے گلشن میں
Ghazal
حسنِ فردا غمِ امروز سے
Ghazal
مگر وہ پھول سا چہرہ
Ghazal
ہرا بھرا بدن اپنا
Ghazal
پیروں میں زنجیریں ڈالیں
Ghazal
دریا سے کوئی شخص
Ghazal
اپنے حالات سے مجبور ہیں
Ghazal
میں اس گلی میں اکیلا تھا
Ghazal
ہر شے گزشتنی ہے
Ghazal
زخم کھلتے ہیں
Ghazal
بہتر ہے خاک ڈالیے
Ghazal
دوستو پانی کبھی رکتا نہیں
Ghazal
میری آنکھوں میں سجا ہے
Ghazal
کلیوں کو نہال کر گئے ہم
Ghazal
تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
Nazm
اِندمال
Nazm
اِنفرادیت پرست
Nazm
اس نے کہا
Ghazal
غمِ الفت مرے چہرے سے
Ghazal
روشن ہیں دل کے داغ
Ghazal
وہ سامنے تھا پھر بھی
Ghazal
مجھ سے ملنے شب غم
Ghazal
آگ کے درمیان سے نکلا
Ghazal
مرجھا کے کالی جھیل میں