Prof. Syed Mujahid Sajjad

درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر

دوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر

آج تک اس کے تعاقب میں بگولے ہیں رواں

ابر کا ٹکڑا کبھی برسا تھا ریگستان پر

میں جو پربت پر چڑھا وہ اور اونچا ہو گیا

آسماں جھکتا نظر آیا مجھے میدان پر

کمرے خالی ہو گئے سایوں سے آنگن بھر گیا

ڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر

اب یہاں کوئی نہیں ہے کس سے باتیں کیجیے

یہ مگر چپ چاپ سی تصویر آتش دان پر

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

بس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں

نیلی چادر سی تنی ہے جو کھلے میدان پر

وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ

یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشندان پر

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali