یہاں درخت کے اوپر اگا ہوا ہے درخت
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
یہاں درخت کے اوپر اگا ہوا ہے درخت
زمین تنگ ہے (جیسے کبھی فراخ نہ تھی)
ہوا کا کال پڑا ہے، نمی بھی عام نہیں
سمندروں کو بلو کر فضاؤں کو متھ کر
جنم دیے ہیں اگر چند ابر کے ٹکڑے
جھپٹ لیا ہے انہیں یوں دراز شاخوں نے
کہ نیم جاں تنے کو ذرا خبر نہ ہوئی
جڑیں بھی خاک تلے ایک ہی لگن میں رواں
نہ تیرگی سے مفر ہے، نہ روشنی کا سوال
زمیں میں پاؤں دھنسے ہیں فضا میں ہات بلند
نئی جہت کا لگے اب درخت میں پیوند
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔