Prof. Syed Mujahid Sajjad

زخم کھلتے ہیں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دور

زخم کھلتے ہیں ترے گاؤں سے دور

سنگ منزل نے لہو اگلا ہے

دور ہم بادیہ پیماؤں سے دور

کتنی شمعیں ہیں اسیر فانوس

کتنے یوسف ہیں زلیخاؤں سے دور

کشتِ امید سلگتی ہی رہی

ابر برسا بھی تو صحراؤں سے دور

جور حالات بھلا ہو تیرا

چین ملتا ہے شناساؤں سے دور

جنت فکر بلاتی ہے چلو

دیر و کعبہ سے کلیساؤں سے دور

رقصِ آشفتہ سراں دیکھیں گے

دور ان انجمن آراؤں سے دور

جستجو ہے در یکتا کی شکیب

سیپیاں چنتے ہیں دریاؤں سے دور

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali