Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں اس گلی میں اکیلا تھا

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کرا گرا ہی نہیں

اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت

نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب

کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت

ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ

مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت

یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ

میں اپنے دشت سے گزارا تو بھید پائے بہت

جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا

تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت

بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے

مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت

جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر

کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت

شکیبؔ کیسی اڑان، اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے

کہ زیرِ دام جب آئے تھے ، پھڑپھڑائے بہت

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali