کوئی اس دل کا حال کیا جانے
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
کوئی اس دل کا حال کیا جانے
ایک خواہش ہزار تہہ خانے
موت نے آج خودکشی کر لی
زیست پر کیا بنی خدا جانے
پھر ہوا کوئی بد گماں ہم سے
پھر جنم لے رہے ہیں افسانے
وقت نے یہ کہا ہے رک رک کر
آج کے دوست کل کے بیگانے
دور سے ایک چیخ ابھری تھی
بن گئے بے شمار افسانے
زیست کے شور و شر میں ڈوب گئے
وقت کو ناپنے کے پیمانے
کتنا مشکل ہے منزلوں کا حصول
کتنے آساں ہیں جال پھیلانے
راز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں
لوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔