Prof. Syed Mujahid Sajjad

روشن ہیں دل کے داغ

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغ

کیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغ

وہ دن نہیں کرن سے کرن میں لگے جو آگ

وہ شب کہاں چراغ سے جلتے تھے جب چراغ

تیرہ ہے خاکداں، تو فلک بے نجوم ہے

لائے کہاں سے مانگ کے دست طلب چراغ

روشن ضمیر آج بھی ظلمت نصیب ہیں

تم نے دیے ہیں پوچھ کے نام و نسب چراغ

وہ تیرگی ہے دشتِ وفا میں کہ الاماں

چمکے جو موجِ ریگ تو پائے لقب چراغ

دن ہو اگر تو رات سے تعبیر کیوں کریں

سورج کو اہلِ ہوش دکھاتے ہیں کب چراغ

اے بادِ تند وضع کے پابند ہم بھی ہیں

پتھر کی اوٹ لے کے جلائیں گے اب چراغ

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali