Prof. Syed Mujahid Sajjad

مجھ سے ملنے شب غم

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنامِ خیالی ٹھہرو

میرا دل گوشۂِ تنہائی میں گھبرائے گا

لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو

زخم گہرا ہی سہی، زخم ہے ، بھر جائے گا

عزم پختہ ہی سہی ترکِ وفا کا لیکن

منتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا

آنکھ جھپکے نہ کہیں، راہ اندھیری ہی سہی

آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا

دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ

جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali