Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں اس کو پانا بھی چاہوں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

میں اس کو پانا بھی چاہوں

تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے

وہ آگے آگے تیز خرام

میں اس کے پیچھے پیچھے

افتاں خیزاں

آوازیں دیتا

شور مچاتا

کب سے رواں ہوں

برگ خزاں ہوں

جب میں اکتا کر رک جاؤں گا

وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر

مجھ سے آنکھیں چار کرے گا

پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا

پھر میں

منہ توڑ کے

تیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا

اپنے نقش قدم روندوں گا

اب وہ دل تھام کے

میرے پیچھے لپکتا آئے گا

ندی نالے

پتھر پربت پھاند آ جائے گا

میں آگے آگے

وہ پیچھے پیچھے

دونوں کی رفتار ہے اک جیسی

پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے

وہ مجھ کو یا میں اس کو پا لوں

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali