حسنِ فردا غمِ امروز سے
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
حسنِ فردا غمِ امروز سے ضَو پائے گا
چاند ڈوبا ہے تو سورج بھی ابھر آئے گا
آندھیوں میں بھی فروزاں ہے چراغِ امّید
خاک ڈالے سے یہ شعلہ کہیں بجھ جائے گا
کو بہ کو دام بچھے ہوں کہ کڑکتی ہو کماں
طائرِ دل پرِ پرواز تو پھیلائے گا
توڑ کے حلقۂِ شب، ڈال کے تاروں پہ کمند
آدمی عرصۂِ آفاق پہ چھا جائے گا
ہم بھی دو چار قدم چل کے اگر بیٹھ گئے
کون پھر وقت کی رفتار کو ٹھہرائے گا
راہ میں جس کی دیا خونِ دل و جاں ہم نے
وہ حسیں دور بھی آئے گا، ضرور آئے گا
شکیب جلالی
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔