Prof. Syed Mujahid Sajjad

شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی

مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی

بے نغمہ و صدا ہے وہ بت خانۂِ خیال

کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی

وہ پھر رہے ہیں زخم بہ پا آج دشت دشت

قدموں میں جن کے شاخِ گلِ تر جھکی رہی

یوں بھی بڑھی ہے وسعت ایوانِ رنگ و بو

دیوارِ گلستان درِ زنداں سے جا ملی

رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں

اب کے مگر سجائی گئی شاخِ دار بھی

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali