Prof. Syed Mujahid Sajjad

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

رہ تو گئی فریب مسیحا کی آبرو

ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا

خوش ہوں کہ بات شورش طوفاں کی رہ گئی

اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا

بے چارگی پہ چارہ گری کی ہیں تہمتیں

اچھا کسی سے عشق کا مارا نہ ہو سکا

کچھ عشق ایسی بخش گیا بے نیازیاں

دل کو کسی کا لطف گوارا نہ ہو سکا

فرط خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل پڑے

جب ان کا التفات گوارا نہ ہو سکا

الٹی تو تھی نقاب کسی نے مگر شکیبؔ

دعووں کے باوجود نظارہ نہ ہو سکا

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali