Prof. Syed Mujahid Sajjad

ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا

دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں

پہنچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا

یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر

یا اتنا نرم دل کہ رگ گل سے کٹ گیا

بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون

پتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا

اب کون جائے کوئے ملامت کو چھوڑ کر

قدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا

گنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہو برا

آیا جدھر سے تیر ادھر ہی پلٹ گیا

رکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش

میں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا

جس کی اماں میں ہوں وہی اکتا گیا نہ ہو

بوندیں یہ کیوں برستی ہیں بادل تو چھٹ گیا

وہ لمحۂ شعور جسے جانکنی کہیں

چہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا

ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور

رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا

اک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیبؔ

کھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali