Prof. Syed Mujahid Sajjad

ابو جان کی سالگرہ پر

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

تو کہ اس گھر کا چمکتا ہوا روشن تارا اپنی تابش میں جو سورج سے سوا رہتا ہے

چشم بینا سے تو دیکھا نہیں تجھ کو لیکن تیرا پیکر میرے سینے میں سجا رہتا ہے

زینتِ حسنِ چمن تیرے گھنے سائے میں ہم زمانے کی کڑی دھوپ سے بچ جاتے ہیں

ہم تو مٹ جاتے شب و روز کے ہنگاموں میں ہم تری ذات سے جینے کا ہنر پاتے ہیں

تو نے جو درد اٹھائے ہیں ہماری خاطر آج بھی وہ تِری آنکھوں سے نظر آتے ہیں

گردشِ وقت کی فطرت میں نہیں ہے رکنا پاس تُو ہو تو مہ و سال ٹھہر جاتے ہیں

تو کہ ہے شارحِ اسرارِ گراں بارِ حیات صورتِ جُہدِ مسلسل ترا ہر دن تری ہر رات

ہے محبت ترا لہجہ تو ہدایت تری بات تو کہ اس گھر کا مسیحا ہے، محبت تری ذات

ہم نے جو خوبی ِکردار و عمل پائی ہے تیری گفتار سے کردار سے سب سیکھا ہے

جو بھی نا خوبِ عمل، داغِ قبا میرا ہے وہ فقط میرا ہے میرا ہے فقط میرا ہے

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad