یہ تبسم تو ایک پردہ تھا
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
یہ تبسم تو ایک پردہ تھا دل مگر آنسوؤں کا دریا تھا
اسکی تدفین کرکے آیا ہوں ایک جذبہ جو عین سچا تھا
کتنا برباد ہوگیا ہے یہ دل کتنا آباد اس کو رکھا تھا
شعر، جس پر تڑپ اٹھی دنیا میں نے بے چارگی میں لکھا تھا
اک تمنا تھی گھر بسائیں گے ایک عرصہ ہوا یہ سوچا تھا
کم نگاہی کے بھیس میں ہم نے ظرف دیدہ وروں کا دیکھا تھا
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- رات باقی ہے چراغوں کو بجھانے والو (Ghazal)