اے شب زادو، بیدار رہو خورشید اُبھرنے والا ہے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
اے شب زادو، بیدار رہو خورشید اُبھرنے والا ہے اس شامِ غریباں کا منظرلمحوں میں بدلنے والا ہے
اے شجر نشینو! اُڑ جاؤ بے رحم ہوا کے جھونکوں میں ہر شاخ و ثمر، ہر غنچہ و گل اک آگ میں جلنے والا ہے
بے تاج ہوا، تاراج ہوا اک تخت نشیں محتاج ہوا اس شہر کا سب سے اونچا گھر دیکھو تو اُجڑنے والا ہے
ہر رنگ میں دنیا بستی ہے ، کہیں رونق ہے کہیں وحشت ہے کوئی سایہ ِ زلف میں رہتا ہے کوئی جاں سے گزرنے والا ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)