امی کے لیے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
ایک اک زخم ہرا ہوتا ہے ہر سال مرا مرے احساس کا ہر سال لہو ہوتا ہے
تیری آواز، تری یاد بہت آتی ہے اور آنکھوں کے جھروکوں کا وضو ہوتا ہے
درد اُٹھتا ہے، یہی درد دوا بنتا ہے وقت چپ چاپ کھڑا اشک مرے گنتا ہے
سینۂ ہست میں دل نوحۂ جاں سنتا ہے ایک ایک سانس بڑے پیار سے غم بنتا ہے
تو نہیں ہے تو کوئی میرا شناسا ہی نہیں کوئی اس دل کی حقیقت کو سمجھتا ہی نہیں
محرمِ شوق و وفا کوئی نہیں ہے تجھ بن ہاتھ خالی ہے مرا، تنگ زمیں ہے تجھ بن
مرے جذبات پہ بس برف جمی ہے تجھ بن ہاں محبت کی بہت زیادہ کمی ہے تجھ بن
ہم نَفس ہیں تو سہی غم کو مٹانے والے تو نہیں اُن میں مگر چھوڑ کے جانے والے
تیری صورت مرے سینے میں نہاں رہتی ہے تو خدا جانے تہِ خاک کہاں رہتی ہے
تو سدا شاد رہے، آہ! جہاں رہتی ہے تیری بخشش کی دعا وردِ زباں رہتی ہے
ایک قندیلِ وفا تو نے جلائی گھر میں رونقِ بزمِ جنوں تو نے سجائی گھر میں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)