Prof. Syed Mujahid Sajjad

انصاف ہمارا ماردیا

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

اس قوم کے دل آزاروں نے انصاف کے ان کرداروں نے انصاف ہمارا مار دیا

انصاف کی آنکھ کے تاروں نے اور سکّوں کی جھنکاروں نے انصاف ہمارا مار دیا

یاں ان کے گھر کا آئین ہے یاں زور زبر کا آئین ہے انصاف کے ٹھیکیداروں نے انصاف ہمارا مار دیا

انصاف کا پرچم ہاتھوں میں انصاف کی باتیں نغموں میں انصاف کے ان غم خواروں نے انصاف ہمارا مار دیا

تحریروں نے تقریروں نے اور عدل کی ان زنجیروں نے زنجیروں کی جھنکاروں نے انصاف ہمارا مار دیا

بس جھوٹ فریب کی گرہوں میں اور آئین کی تشریحوں میں انصاف کے پہرے داروں نے انصاف ہمارا مار دیا

ترا شوق تھا نیا آئینہ ،تجھے کیوں برا لگا آئینہ ترے خال و خد کیوں بدل گئے ، ترے دل میں کیوں چبھا آئینہ

مجھے کوئی کہتا ہے با وفا کوئی اور کہتا ہے بے وفا مرا کون ہے یہاں آشنا مجھے دیجئے ذرا آئينہ

وہ دکھائیے جو کہا کروں وہ بتائیے جو سنا کروں مرے ہم نشیں !مجھے ڈھونڈھ دے کوئی دلفریب سا آئینہ

ترے حسنِ ناز کی دلکشی جو مثال تھی کسی چاند کی وہ غبارِ وقت میں کھو گئی،تو کہاں گیا تیرا آئینہ

مری کم نگاہی کو دیکھ کر مرا یار پہلے تو رو پڑا مگر اس کے بعد وہ چل دیا مرے پاس رکھ گیا آئینہ

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad