اس عالمِ خاکی میں بینائی بھی پردہ ہے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
اس عالمِ خاکی میں بینائی بھی پردہ ہے یہ بزم بھی پردہ ہے تنہائی بھی پردہ ہے
تم آئینہ سازوں سے کیا پوچھتے پھرتے ہو سب آنکھ کا دھوکا ہے زیبائی بھی پردہ ہے
دھوکا ہے سماعت کا ورنہ تری دنیا میں پردہ ہے یہ ہچکی بھی، شہنائی بھی پردہ ہے
تقریر کے پہلو میں تحریر کے دامن میں آواز کے جادو میں دانائی بھی پردہ ہے
کس بات پہ نازاں ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا سب آنکھ مچولی ہے رعنائی بھی پردہ ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)