بتانِ بغض و اَنا ہوں تو دل میں نور کہاں
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
بتانِ بغض و اَنا ہوں تو دل میں نور کہاں سیاہ رات میں خورشید کا ظہور کہاں
گزر گیا ہے تلاطم شباب و مستی کا جو اپنے آپ پہ ہوتا تھا وہ غرور کہاں
نہ وہ مزاجِ تکلّم، نہ وہ کلام و کلیم دلوں کے دشت میں اب وہ چراغِ طور کہاں
نہ وہ نگاہِ تمدّن، نہ وہ تڑپ، نہ وہ دل یہ سب نہیں ہے تو پھر داستانِ حور کہاں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)