دشت کی ویرانیاں ہیں ہمسفر کوئی نہیں
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
دشت کی ویرانیاں ہیں ہمسفر کوئی نہیں اس اندھیری رات کی شاید سحر کوئی نہیں
کس پہ دستک دو گے آکر اے مرے پیارے حبیب میرے گھر میں درد ہے دیوار و در کوئی نہیں
حُسن کی اس چاندنی پر یہ تکبّر کیا ہوا یہ تو اُس کی دین ہے تیرا ہُنر کوئی نہیں
وہ نہیں تو زندگی بے رنگ ہے بے کیف ہے تشنگی ہے دھوپ ہے، سر پر شجر کوئی نہیں
ہاتھ پر مہندی لگا لے ضد کی عادت چھوڑ دے دیکھ میرے پاس اب خونِ جگر کوئی نہیں
وہ دیا روشن کرو جس سے جلیں لاکھوں چراغ ورنہ گردُوں پر کہیں شمس و قمر کوئی نہیں
جابجا بکھرے ہوئے ہیں بے کفن لاشے مگر میں غلام اس کا مجاؔہد جس پہ سر کوئی نہیں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)