ہر دشت میں ہر بحر میں فرعون بہت ہیں
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
ہر دشت میں ہر بحر میں فرعون بہت ہیں ہر موج میں ہر لہر میں فرعون بہت ہیں
بے جرم نگاہوں میں بھی اشکوں کے چراغاں لگتا ہے کہ اس شہر میں فرعون بہت ہیں
کیا درد کہانی ہے کہ نایاب ہے موسٰی اور ظلم کے اس دہر میں فرعون بہت ہیں
ہر شخص کے چہرے پہ ہے ایک خوف کی زردی کیا جانیے کیوں قہر میں فرعون بہت ہیں
وہ وقت بھی آئے گا کہ موسیٰ کی طرح ہم دیکھیں گے کسی نہر میں فرعون بہت ہیں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)