یہ کسی کی زُلفِ دراز تھی جو مرے گمان پہ چھا گئی
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
یہ کسی کی زُلفِ دراز تھی جو مرے گمان پہ چھا گئی مری جستجو ہی کچھ اور تھی مجھے اور دنیا دکھا گئی
تجھےنورِصبح کا واسطہ مرے آنسوؤں کو چراغ دے کہ سکوتِ شب کی ہر اک صدا مرے دھڑکنوں میں سما گئی
یہ اجاڑ بستی کے باسیوں کے گلاب چہروں کو کیا ہوا کہیں آندھیوں میں ردا گری کہیں دھوپ چہروں کو کھا گئی
پسِ مرگ مجھ کو بھلا دیا، مِرا نام نقشہ مٹا دیا کہ صدائےگریہ و شور میں تجھے نیند رات کو آگئی
یہ عجیب شامِ وصال ہے نہ خوشی نہ کوئی ملال ہے کہ گزشتہ سالوں کی بے حسی مِری عادتوں میں سما گئی
تری آرزوئے جمال نے تری سادگی کو مٹا دیا مِری شاعری بھی کمال ہے مجھے آئینہ جو دکھا گئی
یہ جو شہرِ آس اجڑ گیا یہ درِ امید نہیں رہا ذرا سوچنا کہ یہ کیا ہوا کہاں راہ و رسمِ وفا گئی
ترے فراق میں تڑپیں تجھے خبر بھی نہ ہو کہ تجھ کو ڈھونڈنے نکلیں تجھے خبر بھی نہ ہو
خدا کرے کہ تری آنکھ کے سبھی آنسو ہماری آنکھ سے برسیں تجھے خبر بھی نہ ہو
خدا کرے کہ طلسمات ِشوقِ روح ِبشر تری بھی روح میں اتریں تجھے خبر بھی نہ ہو
میں اپنے اشک جو لوگوں کے سامنے رکھ دوں بہت سے جان سے گزریں تجھے خبر بھی نہ ہو
یہ تیرا حسن سلامت بس اک جھلک کے لیے بہت سے راہ سے بھٹکیں تجھے خبر بھی نہ ہو
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)