کسی ہوا سے چراغِ وفا نہیں بجھتا
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
کسی ہوا سے چراغِ وفا نہیں بجھتا کہ آبِ چشم سے آتش کدہ نہیں بجھتا
یہ ٹمٹماتے ستارے، یہ نورِ شمس و قمر تمھاری پھونک سے کوئی دیا نہیں بجھتا
علی کے علم کی حکمت ہے موجزن دل میں کبھی بھی نور کا یہ سلسلہ نہیں بجھتا
میں دل کی آنکھ سے ہر چیز دیکھ لیتا ہوں بزورِ چشمِ فلک یہ دیا نہیں بجھتا
اُسی مقام پہ میں آج بھی کھڑا ہوں جہاں چراغِ وعدۂ فردا ترا نہیں بجھتا قرۃ العین (چھوٹی بہن کے نام) کی سالگرہ پر
یہ ترا جشنِ مسرت، یہ تری شام ہے آج، تو محبت کی وہ تحریر ہے جس کو فطرت لوحِ اذہان پہ خود نقش کیا کرتی ہے تو وہ تاثیر ہے جو حرفِ دعا میں اکثر صورتِ خوشبوئے گل دل میں رہا کرتی ہے تو ہے خورشیدِ سحرخیز ہمارے گھر کا شمعِ خورشید ترے رخ سے جلا کرتی ہے سنگ ہاتھوں سے میں راہوں کے چنوں گا تیرے آخری سانس تلک ساتھ رہوں گا تیرے آج کی شام بتا کون سا تحفہ لاؤں؟ تیری ہستی کے برابر کوئی موتی ڈھونڈوں؟ یا تری خوشبو سے پیوستہ میں گجرا دیکھوں؟ یا کوئی چاند ترے نقشِ قدم پر رکھ دوں؟ کوئی تحفہ تری ہستی کا سزاوار نہیں شہر میں کوئی بھی اس طور کا بازار نہیں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)