میں نے غزل میں گریہ و نوحہ نہیں رکھا
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
میں نے غزل میں گریہ و نوحہ نہیں رکھا دل رکھ دیا ہے درد کا دریا نہیں رکھا
روتی رہی ہیں بزم میں کل رات بےتکان آنکھوں نے دل کے حال کا پردہ نہیں رکھا
نقش و نگار گھر کے بہت خوب ہیں مگر یہ کیا کہ اک درخت کا سایہ نہیں رکھا
بس اختیارِ مہلتِ ایام دیکھ کر میں نے کبھی نگاہ کو اونچا نہیں رکھا
خود ہی بچو، سنبھل کے چلو، جو بھی ہو کرو حق نے تمھارے حسن پہ پہرا نہیں رکھا
گزری ہے مجھ پہ جو بھی مگر میں نے آج تک خود کو ترے خیال سے تنہا نہیں رکھا
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)