Prof. Syed Mujahid Sajjad

میرے ادراک کے زخموں سے لہو رِستا ہے

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

میرے ادراک کے زخموں سے لہو رِستا ہے لفظ لکھتے ہوئے روتا ہے، قلم روتا ہے

جو غریبوں نے دیے گھر میں جلا رکھے ہیں ان چراغوں سے بھی حسرت کا دھواں اٹھتا ہے

تشنگی شوقِ زلیخا کی بھی دکھ دیتی ہے قید میں یوسفِ کنعان پہ بھی دل دکھتا ہے

تو مناجات کی تاثیر میں تعجیل نہ ڈھونڈ عمر لگتی ہے کہ قطرہ جو گہر ہوتا ہے

بےحسی دکھیئے اس دور کی ہر ساعت میں پھول جلتا ہے مگر باغ ہرا رہتا ہے

ہے عجب حسنِ مسیحائی میسر مجھ کو تیرے ہونے سے مرا درد بھی تھم جاتا ہے

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad