Prof. Syed Mujahid Sajjad

نوحۂ فلسطین

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

اے چشمِ فلک! تو دیکھ ذرا

انسان یہاں کس حال میں ہے تو دیکھ غزہ کی پٹی پر ہر سوختہ جاں کس حال میں ہے بیٹی کی رِدا کس حال میں ہے بیٹے کی اَنا کس حال میں ہے ہر باپ کا دل کس حال میں ہے ہر بوڑھی ماں کس حال میں ہے

اے چشمِ فلک! تو کیا جانے ان لوگوں پر کیا گزری ہے یہ غم زدگاں کس حال میں ہیں ہر خشک زباں کس حال میں ہے

ماں باپ کو بچے ڈھونڈتے ہیں اور وہ بچوں کو ڈھونڈتے ہیں کوئی کیا سمجھے کوئی کیا جانے کب کون کہاں کس حال میں ہے

یہ نوحہ و گریہ کچھ بھی نہیں اشکوں کا یہ ہدیہ کچھ بھی نہیں لفظوں کا یہ فِدیہ کچھ بھی نہیں ہرپِیر و جواں کس حال میں ہے

اے موسیٰ! تیری امت نے کیا ظلم کیا ہے لوگوں پر دل خون کے آنسو روتا ہے ہر شخص وہاں کس حال میں ہے

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad