صحرا ہے اور ہم ہیں شجر کی تلاش میں
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
صحرا ہے اور ہم ہیں شجر کی تلاش میں اور دل میں اک دعا ہےاثر کی تلاش میں
میں نے تو اس کو صرف دکھایا تھا آئنہ خنجر بکف ہے وہ مرے سر کی تلاش میں
منزل کی جستجو میں زمانے گزر گئے گھر سے چلا تھا میں ترے گھر کی تلاش میں
صورت گری کے حسن سے آباد ہے جہاں نکلا ہے شوق اس کے ہنر کی تلاش میں
اس ابتلاء کے دورِ قیامت میں دوستو انسان ہے سکوں کے نگر کی تلاش میں
مشکل میں غم گسار بھی کیسے دکھائی دیں آنکھوں پہ خواہشات کے پردے دکھائی دیں
اے خاکِ ارض پاک یہ سورج کی روشنی تجھ پر پڑے تو خون کے دھبے دکھائی دیں
احساسِ احترامِ بشر پر لکھیں کتاب اور در بدر غریب کے بچے دکھائی دیں
اب انتظارِ نورِ سحر کیوں نہیں رہا کیوں ذوقِ چشمِ یار پہ پردے دکھائی دیں
کس درجہ ہم یقین کی دولت سے دور ہیں رستہ نظر نہ آئے تو رستے دکھائی دیں
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)