سرِ غرور کو شاعر حضور لکھتا ہے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
سرِ غرور کو شاعر حضور لکھتا ہے اسی طرح سے وہ منصب، مقام پاتا ہے
امیر زادوں کی راتوں کا حال دل میں لیے یہ چاند وقتِ سحر روز منہ چھپاتا ہے
میں آسماں سے ستارے تو توڑ لاؤں مگر تمھارے پاؤں میں سورج قیام کرتا ہے
یہ کیا ہوا کہ زمانے گزرتے جاتے ہیں ہمارے ہاتھ سے سب کچھ نکلتا جاتا ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)