Prof. Syed Mujahid Sajjad

تختیاں لگاتے ہو زندگی کی قبروں پر

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

تختیاں لگاتے ہو زندگی کی قبروں پر کیوں غرور کرتے ہو بے ثبات عہدوں پر

آسماں نہیں گرتا کیوں زمیں نہیں پھٹتی کوئی ظلم کرتا ہے جب غریب بچوں پر

تم نے چاند کا رستہ ان سے پوچھ لینا تھا وہ نگاہ رکھتے تھے آسماں کے رستوں پر

کاش جھانک لیتے تم اپنے بھی گریباں میں تہمتیں لگاتے ہو کیوں شریف لوگوں پر

آپ کی ان آنکھوں سے دیکھتا مجاہدؔ ہے میں نثار ہو جاؤں آپ کی ان آنکھوں پر

میری پاکیزہ محبت کی طلب بڑھتی رہی دل ہی کچھ ایسا ملا جس کے سبب بڑھتی رہی

وقت کیوں ٹھہر گیا اپنی ہی فطرت کے خلاف ایک اک لمحہ ترے ہجر کی شب بڑھتی رہی

اک بیاباں میں ترا نام سنا، چونک گیا پھر وہ وحشت مِرے سینے میں عجب بڑھتی رہی

آج مظلوم کے ہاتھوں میں ہے تلوارِ ستم آج مظلوم کی شمشیرِ غضب بڑھتی رہی

فاصلے بڑھتے گئے اس سے مجاہدؔ میرے اجنبیت جو بڑھی، حدِادب بڑھتی رہی

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad