تو سرِ صحرا سمندر دے چلا، تو کون ہے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
تو سرِ صحرا سمندر دے چلا، تو کون ہے اک اندھیرے گھر میں شمع رکھ گیا، تو کون ہے
اے اسیرِِ روز و شب، اے نا رسائے زندگی وقت کی تحریر پڑھ اور پھر بتا، تو کون ہے
اے سحر زادے! تری بیداریوں پر میں نثار اپنے چہرے سے ذرا پردہ ہٹا، تو کون ہے
کیا تجھے حق نے کہا تھا اپنا نائب دہر میں؟ سر اٹھا، نظروں سے نظریں تو ملا، تو کون ہے
اب مجھے اس حال میں سب چھوڑ کر جانے لگے تو گلے مل کر مجھے رونے لگا، تو کون ہے
یہ مجاہدؔ کس نے مجھ کو پیاس میں پانی دیا شکریہ، صد شکریہ، شکریہ، تو کون ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)